ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / نیشنل ہائی وے توسیعی منصوبہ:کاروارمیں تحویل اراضی دفترمیں چھایا سناٹا۔ عملے کو تین ماہ سے نہیں ملی تنخواہ

نیشنل ہائی وے توسیعی منصوبہ:کاروارمیں تحویل اراضی دفترمیں چھایا سناٹا۔ عملے کو تین ماہ سے نہیں ملی تنخواہ

Tue, 02 Jul 2019 20:24:08    S.O. News Service

کاروار 2/جولائی (ایس او نیوز) نیشنل ہائی وے اتھاریٹی کے تحویل اراضی محکمے کا دفتر ان دنوں لاوارث پڑا ہوا ہے کیونکہ مبینہ طور پرگزشتہ تین مہینوں سے تنخواہیں نہ ملنے کی وجہ سے افسران اور عملہ غیر معلنہ ہڑتال پر ہے۔دوسری طرف سے دفتر کو اپنی سرگرمی جاری رکھنے کے لئے نئی دہلی سے مزید مہلت بھی نہیں دی گئی ہے۔ جبکہ نیشنل ہائی وے 66کی توسیع کے لئے جن لوگوں کی زمینین تحویل میں لی گئی تھیں ان میں سے کئی معاملات کو نمٹانے کا کام ابھی باقی ہے۔

خیال رہے کہ تحویل اراضی افسر کا دفتر ضلع ڈپٹی کمشنر کے دفتر والی عمار ت میں پہلے منزلے پر واقع ہے، اور وہاں پر اس وقت کسی قسم کی سرگرمی انجام نہیں دی جارہی ہے۔معلوم ہوا ہے کہ اس دفتر میں خدمات انجام دینے والے سات افراد پر مشتمل عملے کو سابقہ مالیاتی سال کے اختتام کے بعد کوئی تنخواہ نہیں دی گئی ہے۔ بیرونی ٹھیکے پر کام کرنے والے ملازمین یہاں تعینات ہیں، جن میں وظیفہ یاب افسران بھی شامل ہیں۔اب گزشتہ تین چار دنوں سے عملے سے تعلق رکھنے والے تمام افراد نے غیر معلنہ ہڑتال کررکھی ہے اور کوئی بھی دفتر میں حاضری نہیں دے رہا ہے۔2016میں قائم کیے گئے اس دفتر کی معیاد کار 2سال کے لہئے تھی، جو مارچ 2018میں ختم ہوگئی تھی۔ چونکہ زمین تحویل میں لینے اور معاوضہ تقسیم کرنے کا کام پورا نہیں ہواتھا اس لئے بنگلورو میں واقع نیشنل ہائی وے اتھاریٹی کے زونل دفتر سے میعاد میں مزید ایک سال کی توسیع کی گئی تھی جومارچ 2019 میں ختم ہوگئی تھی۔ ابھی بہت سارا کام نپٹانا باقی ہے اس لئے اس میعاد میں توسیع کی ضرورت تھی، مگر اب یہ کام دہلی کے ہیڈ آفس ہونا ہے اور وہاں سے میعاد میں توسیع کا اجازت نامہ موصول نہیں ہوا ہے۔ جس کے نتیجے میں عملے کو تنخواہیں بھی ادا نہیں کی جارہی ہیں۔ان حالات میں محکمہ تحویل اراضی سے متعلق عملہ مالی دشواریوں کا شکار ہوگیا ہے۔

ان حالات کا براہ راست منفی اثر ہائی وے کی توسیع کے لئے اپنی زمینیں گنوانے والے بعض افراد پر پڑا ہے۔ وہ اپنے معاوضے سے متعلق تنازعات حل کرنے کے لئے رات دن دفتر کے چکر کاٹتے ہوئے تھک چکے ہیں۔حالانکہ تحویل اراضی کی رقم زیادہ تر افراد کو تقسیم کی جاچکی ہے، پھر کئی معاملات ابھی حل نہیں ہوئے ہیں۔اس لئے متاثرہ افراد کا پریشان ہونا فطری بات ہے۔


Share: